ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اترکنڑا ضلع کو ریاستی و مرکزی حکومتوں کے رہائشی اسکیموں میں 10کروڑسے زائد روپیہ باقی : مستفیدین کے لئے گھروں کی تعمیر ناممکن  

اترکنڑا ضلع کو ریاستی و مرکزی حکومتوں کے رہائشی اسکیموں میں 10کروڑسے زائد روپیہ باقی : مستفیدین کے لئے گھروں کی تعمیر ناممکن  

Fri, 25 Dec 2020 18:56:44    S.O. News Service

کاروار:25؍دسمبر (ایس اؤ نیوز) غریب عوام کو ریاستی و مرکزی حکومتوں کی  مختلف رہائشی اسکیم کے تحت منظور ہوئے کروڑوں روپئے کی امداد ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے اس بات کا الزام عائد کرتے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مستفیدین کے گھر ابھی تک ادھورے ہیں جس سے لوگ حیران و پریشان ہیں۔ 

راجیو گاندھی دیہی رہائشی اسکیم، واجپائی اور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر شہری رہائشی اسکیم کے تحت تعمیر کردہ گھروں کے مستفیدین کو ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے (پی ایم اے وائی ) منصوبے  کی طرف سے ضلع کو دی جانے والی 10،11،56،800روپئے ابھی تک ادا نہیں کی گئی ہے۔ مندرجہ بالا رہائشی اسکیموں میں مستفیدین کو 1.5لاکھ روپیوں سے 1.65لاکھ روپئے بطور امداد ادا کی جاتی ہے۔

مستفیدین کو گھر تعمیر کے لئے مرحلہ وار رقم منظور کی جاتی ہے، لیکن گزشتہ تین برسوں سے ضلع کو کوئی امدادنہیں ملی ہے۔ سال 2015-16، 2016-17اور 2017-2018 کے مطابق مرکزی حکومت کی طرف سے شہری رہائشی اسکیم کے 666 مستفیدین  کو 8،49،29،000روپئے اور ریاستی حکومت کے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر رہائشی اسکیم میں 1،62،27،800روپئے امداد  سمیت 970مستفیدین کو کل 10،11،56،800روپئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے منظور ہونا باقی ہے۔

ضلع کے بھٹکل تعلقہ کے 20مستفیدین کو ریاستی حکومت کی طرف سے 10،19،800روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 41مستفیدین کو 44،25،000روپئے سمیت کل 54،44،800روپئے کی امداد موصول ہونا باقی ہے۔

اسی طرح ضلع کےکاروار تعلقہ میں 37مستفیدین کو ریاستی حکومت کی طرف سے 14،85،400روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 151مستفیدین کو 2،23،12،500روپئے سمیت کل 2،37،97،900روپئے امداد۔ ڈانڈیلی کے 26مستفیدین کو ریاستی حکومت کی جانب سے 15،30،900روپئے اور مرکزی حکومت کی جانب سے 57مستفیدین کو 80،25،00روپئے سمیت کل 95،55،900روپئے کی امداد۔ سرسی کے 15مستفیدین کو ریاستی حکومت کی طرف سے 9،33،800روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 41مستفیدین کو 52،50،000روپئے سمیت کل 61،83،800روپئے کی امداد۔ انکولہ کے 10افرادکو ریاستی حکومت کی طرف سے 10،55،000روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 47لوگوں کو 61،80،000 روپئے سمیت کل 72،35،000روپئے کی امداد۔ یلاپور کے 83افراد کو ریاستی حکومت کی طرف سے 40،26،300روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 34لوگوں کو 32،99،000روپئےسمیت کل 73،25،300روپئے کی امداد منظورہونا باقی ہے۔

ہلیال کے 23 لوگوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے 14،21،800روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 115افراد کو 1،64،25،000روپئے سمیت کل 1،78،46،800روپئے  کی امداد۔ کمٹہ کے 11مستفیدین کو ریاستی حکومت کی طرف سے 4،95،000روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 14لوگوں کو 5،25،000روپئے سمیت کل 10،20،000روپئے کی امداد۔ ہوناور کے 13لوگوں کو ریاستی حکومت کی طرف سے 4،79،800اور مرکزی حکومت کی طرف سے 12افرادکو 6،00،000روپئے سمیت کل 10،79،800روپئے امداد منظور ہونا باقی ہے۔

سداپور کے 27مستفیدین کو ریاستی حکومت کی جانب سے 16،20،000روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 45افراد کو 13،87،500روپئے سمیت کل 30،07،500روپئے کی امداد۔ جالی کے 09لوگوں کو ریاستی حکومت کی جانب سے 14،21،800روپئے اور مرکزی حکومت کی طرف سے 16لوگوں کو 22،50،000روپئے سمیت کل 36،10،000 روپئے کی امداد حاصل ہوناباقی ہے۔ امداد کے منتظر مستفیدین کو اپنے گھروں کی تعمیر ممکن نہیں ہونے سے گھروں کی تعمیر ادھوری رہ گئی ہے۔ اس سلسلےمیں ریاستی و مرکزی حکومتوں کو توجہ دینے عوام نے مطالبہ کیاہے۔


Share: